ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے ہیبلے میں 19ایکڑ زمین منظور؛ ہیبلے عوام کا احتجاج

بھٹکل میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے ہیبلے میں 19ایکڑ زمین منظور؛ ہیبلے عوام کا احتجاج

Wed, 10 Aug 2016 19:21:20    S.O. News Service

بھٹکل:10/اگست(ایس او نیوز) بھٹکل میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لئےہیبلے کے شیڈکولی میں 19 ایکڑ زمین منظور کی گئی ہے جہاں سرکاری پی یو اینڈ ڈگری کالج، سرکاری آئی ٹی کالج،رانی چنما ریسیڈینشیل اسکول اور مرارجی دیسائی ریسڈینشیل اسکول تعمیر کئے جائیں گے۔ حکومت کے اس اقدام سے محبان تعلیم کا جہاں برسوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا، وہیں یہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی منظوری پر متعلقہ علاقہ کے عوام حکومت پر سخت برہم ہیں اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا انتباہ دیا ہے۔

تعلقہ کے ہیبلے دیہات کی سرکاری زمین سروے نمبر 402اور 406 تمام تعلیمی ادارے قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس میں رانی چنما رہائشی اسکول اور مرارجی دیسائی رہائشی اسکول کے لئے فی کس 4ایکڑزمین۔ سرکاری پی یو کالج کے لئے 2ایکڑ زمین۔ ڈگری کالج کے لئے 3ایکڑزمین اور کھیل کے میدان کے لئے 4ایکڑزمین استعمال کی جائے گی۔ آئی ٹی آئی کالج کے لئے 5ایکڑ زمین کی مانگ پیش کش میں شامل تھی لیکن صرف 2ایکڑ زمین منظور کی گئی ہے۔ بدھ کو محکمہ روینو کے افسران نے پولس بندوبست کے ساتھ جائے وقوع پہنچ کر سروے کیا اور نشاندہی کا کام انجام دیا۔ اس سے قبل ہڈین علاقہ میں فوریسٹ زمین کو اسکولوں اور کالجوں کی تعمیر کے لئے پیش کش ارسال کی گئی تھی لیکن محکمہ فاریسٹ کی طرف سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے عرضیاں ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا چکر ہی کاٹتے رہ گئی تھی اور اسی میں برسوں گزر گئے تھے۔ فوریسٹ زمین کی منتقلی دقت آمیز ہونے کی وجہ سے اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر اُجول کمار گھوش نے بھٹکل میں سرکاری زمین کے متعلق رپورٹ مانگی تھی ۔ اس دوران پتہ چلا تھا کہ ہیبلے میں قریب نصف سرکاری زمین کو قبضہ کیا گیا ہے اور اُسے فروخت کرنے کے علاوہ ہیبلے میں اراضی مافیا متحرک ہے۔  رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ زمین کو تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کرنےکا فیصلہ لے کر سرکار کو توجہ دلائی اور حکومت نے منظوری کا مہر لگادیا۔

سروے پر ناراض : بھٹکل تعلقہ ہیبلے دیہات کے سروے نمبر 406اور402پرتعلیمی ادارے قائم کرنے کی غرض سے آج بدھ کو جیسے ہی سروے آفسران پولس کی بھاری فورس کے ساتھ پہنچے اور اپنا کام شروع کیا،متعلقہ علاقہ کے  کسانوں میں سخت ناراضگی دیکھی گئے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ علاقہ کا ایک ذمہ دار سبرائے دیواڑیگا نے بتایا کہ یہ زمین کسانوں کے  استعمال میں ہے مگر تحصل آفسران کالج تعمیرکرنے کے لئے زمین ہم سے چھین کر ہمارے ساتھ نا انصافی کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے ہڈین میں فوریسٹ کی 30ایکڑ زمین محفوظ کی گئی ہے، اب اچانک کسانوں کے استعمال والی زمین اپنی تحویل میں لینا غیر قانونی ہے، ہم جس جگہ پر رہتے ہیں وہ سی آر زیڈ کی حدود میں آتی ہے۔ ہمیں اس کےعلاوہ کوئی جگہ نہیں ہے، پانی جمع ہونے پر بھی گائوں چھوڑ کر جانا پڑتاہے، فی الحال متعلقہ مسئلہ جب وزیر تحصیل کاگوڈ تمپا کے دھیان میں لایا گیا توانہوں نے حکم دیا تھا کہ یہاں کالج تعمیر نہ کی جائے مگر ان کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے سروے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے مقامی پنچایت ممبران چائوڈا تمپا موگیر اورپاروتی گونڈا نے بتایا کہ اس علاقہ میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کو لے کر ہیبلے پنچایت میں بحث ہوئی تھی اور اس بات کو منظور کیا گیا تھا کہ یہ زمین چونکہ کسانوں کے استعمال میں ہے، لہٰذا یہاں تعلیمی ادارے قائم نہیں ہونےچاہئے، اس ضمن میں پنچایت کی جانب سے منظور کیا گیا ٹہرائو اسسٹنٹ کمشنر کو سونپا جاچکا ہے، مگر ان سب کے بائوجود تعلقہ انتظامیہ نے یہاں سروے آفسران کو زمین کے سروے کے لئے روانہ کیا ہے۔ اس موقع پر راما ہیبلے ، جٹپا نائک، مادیو نائک ہیبلے وغیرہ موجود تھے۔

اس سلسلے میں مقامی تحصیلدار وی این باڈکر نے ساحل آن لائن کوبتایاکہ ہیبلے میں موجود سرکاری زمین کو سرکاری تعلیمی اداروں کے عمارات کی تعمیر کے لئے منظوری دی جاچکی ہے، فی الحال سروے کرکے نشاندہی کی گئی ہے۔ اب صرف تعمیر کا کام باقی ہے۔


Share: